Video thumbnail for Interview Punjabi Scholar, Poet & Translator Dr. Wasim Gurdezi | Part-1

Interview Punjabi Scholar, Poet & Translator Dr. Wasim Gurdezi | Part-1

Nov 4, 2024
محقق، نقاد، مترجم ، شاعر ، افسانہ نگار اور ادیب ڈاکٹر وسیم گردیزی ضلع ناروال کے ایک گاؤں منڈہ باجوہ میں پیدا ہوئے۔ پرائمری تک اپنے گاؤں کے سکول میں پڑھے۔ مڈل گورنمنٹ مڈل سکول چہور ٗ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول ظفر وال سے جبکہ ایف اے گورنمنٹ انٹر کالج ظفر وال سے کیا۔ گریجوایشن گورنمنٹ کالج شکر گڑھ سے کیا اور ایم اے پنجابی کا امتحان اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پاس کیا۔ 1998ء میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے زمیندار کالج گجرات میں لیکچرار ہو گئے۔ 1999ء میں ایک سال کے لئے سرور شہید کالج گوجر خان میں بھی پڑھا یا لیکن پھر واپس زمیندار کالج آگئے اور آج تک اسی عشق وفا کی دھرتی سے اپناناطہ جوڑے ہوئے ہیں۔ زمیندار کالج میں طلبا کی مجلس وارث شاہ کی سر پرستی کرتے ہیں۔ کالج میگزین شاہین کے پنجابی حصے کے مدیر ہیں۔ اس کے علاوہ پنجابی ادبی سنگت گجرات کے بانی ممبروں میں سے ہیں اور اس کے سیکریٹری بھی ہیں۔ ڈاکٹر وسیم گردیزی کو پنجاب اور پنجابی سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ وہ اپنی زبان کو دوسری ترقی یافتہ زبانوں میں سے ایک دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ انھوں نے پہلے غزل کو ذریعہ اظہار بنایا اور پھر نظمیں بھی لکھیں۔ انھوں نے اپنی پہلی غزل بی اے میں لکھی جس کا مطلع کچھ یوں تھا: توں ٹر گیا ایں تے ایہہ بہاراں وی نال لے جا نہیں لوڑ مینوں ایہہ سدھراں ساراں وی نال لے جا ایہہ پھل نیں یاداں دے کول میرے اوہ یار تیرے توں چاہویں کھڑنے میں روکاں میری مجال‘ لے جا غزل کے بعد انھوں نے نظم لکھنا شروع کی۔ ان کی نظمیں روایت اور جدیدیت کا ملاپ ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں اپنے معاشرے میں ہونے والے جبر اور ناانصافی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں رومانویت کم کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ رومانویت تو پرامن معاشرے کا خاصہ ہے اور اگر معاشرے میں بدنیتی ‘ بددیانتی اور دھونس دھاندلی کا زور ہو تو وہاں پیار محبت کو پھلنے پھولنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کی ایک نظم کا بند کچھ یوں ہے: میں رانجھن راول منگاں مونہوں آکھاں کجھ نہ سنگاں جندرا ہواں پینڈے اوکھے وچ راہواں کھیڈے بیٹھے میں کیکن رنگ پور ونجھاں پنجاب کی صوفیانہ روایت میں ایک سے بڑھ کر ایک شاعر موجود ہے۔ کافی کی صنف کو زیادہ شاعروں نے اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ شاہ حسین اگر پنجابی شاعری میں کافی کے موجود ہیں تو بلھے شاہ اور خواجہ غلام فرید نے اس صنف کو بام عروج پر پہنچایا۔ کافی میں وسیم گردیزی‘ شاہ حسین سے زیادہ متاثر ہیں۔ کیونکہ شاہ حسین کا انداز صرف اور صرف کافی کو متعارف کروانے کا نہیں بلکہ ان کا کلام پنجابی شاعری کا اعجاز بھی ہے۔ انھوں نے اپنی ٹریٹمنٹ سے کافی کی صنف کو جو حسن بخشا ہے وہ کم کم ہی دوسرے شاعروں کے حصے میں آیا ہے۔ وسیم گردیزی نے بھی اپنی کافیوں میں شاہ حسینی رنگ اور فکر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ان کی ایک کافی ہے: گھور سیاہیاں دے نال اج کل ہے اپنی اشنائی وے لوکا جددا اوہ بنیا ہار گلے دا میں پھس گئی وچ پھاہی وے لوکا لوک ملن عیداں تے میلے‘ میں برہوں گھر جائی وے لوکا اگرچہ وسیم گردیزی نے کافی اور نظم بھی لکھی لیکن غزل اور پنجابی غزل کا رنگ ان کی شاعری میں سب سے کھلتا ہوا رنگ ہے۔ ان کی غزل میں غم جاناں کا اظہار کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے اور غم دوراں ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ان کی

View Video Transcript
#Poetry #Communications & Media Studies